Kaho Tou Laot Jate Hein



‏کہو تو لوٹ جاتے ہیں

ابھی تو بات لمحوں تک ہے، سالوں تک نہیں آئی
ابھی مسکانوں کی نوبت بھی نالوں تک نہیں آئی
ابھی تو کوئی مجبوری خیالوں تک نہیں آئی
ابھی تو گرد پیروں تک ہے، بالوں تک نہیں آئی
کہو تو لوٹ جاتے ہیں

چلو اک فیصلہ کرنے شجر کی اور جاتے ہیں
ابھی کاجل کی ڈوری سرخ گالوں تک نہیں آئی
زباں دانتوں تلک ہے، زہر پیالوں تک نہیں آئی
ابھی تو مشک کستوری غزالوں تک نہیں آئی
ابھی روداد بے عنواں
ہمارے درمیاں ہے، دنیا والوں تک نہیں آئی
کہو تو لوٹ جاتے ہیں

ابھی نزدیک ہیں گھر اور منزل دور ہے اپنی
مبادا نار ہو جائے یہ ہستی، نور ہے اپنی
کہو تو لوٹ جاتے ہیں

یہ رستہ پیار کا رستہ، رسن کا، دار کا رستہ
بہت دشوار ہے جاناں

کہ اس رستے کا ہر ذرہ بھی اک کہسار ہے جاناں
کہو تو لوٹ جاتے ہیں

میرے بارے نہ کچھ سوچو، مجھے طے کرنا آتا ہے
رسن کا، دار کا رستہ
یہ آسیبوں بھرا رستہ، یہ اندھے غار کا رستہ

تمہارا نرم و نازک ہاتھ ہوگر میرے ہاتھوں میں
تو میں سمجھوں کہ جیسے دو جہاں ہیں میری مٹھی میں
تمہارا قرب ہو تو مشکلیں کافور ہو جائیں
یہ اندھے اور کالے راستے پر نور ہو جائیں

تمہارے گیسوؤں کی چھاؤں مل جائے
تو سورج سے الجھنا بات ہی کیا ہے
اٹھا لو اپنا سایہ تو میری اوقات ہی کیا ہے
میرے بارے نہ کچھ سوچو، تم اپنی بات بتلاؤ
کہو
تو چلتے رہتے ہیں

کہو
تو لوٹ جاتے ہیں
امجد اسلام امجدؔ

Comments

Popular posts from this blog

Dukh Ye Hai Mera Yousaf o Yaqoob Ke Khaliq Woh Log Bhi Bichdey Jo Bichadnay Ke Nahi Thay

Mere Tan Ke Zakham Na Gin Abhi Meri Aankh Mein Abhi Noor Hai

Mujh Se Meri Umar Ka Khasara Poochtay Hein Ya'ani Log Mujh Se Tumhara Poochtay Hein