Bhavein Tanty Hein Khanjar Haath Mein Tan Ke Baithay Hein Kisi Se Aaj Bigdi Hai Keh Woh Yun Ban Ke Baithay Hein
بھویں تنتی ہیں خنجر ہاتھ میں ہے تن کے بیٹھے ہیں
کسی سے آج بگڑی ہے کہ وہ یوں بن کے بیٹھے ہیں
Bhavein Tanty Hein Khanjar Haath Mein Tan Ke Baithay Hein
Kisi Se Aaj Bigdi Hai Keh Woh Yun Ban Ke Baithay Hein
الٰہی کیوں نہیں اٹھتی قیامت ماجرا کیا ہے
ہمارے سامنے پہلو میں وہ دشمن کے بیٹھے ہیں
یہ گستاخی یہ چھیڑ اچھی نہیں ہے اے دل ناداں
ابھی پھر روٹھ جائیں گے ابھی تو من کے بیٹھے ہیں
فسوں ہے یا دعا ہے یا معمہ کھل نہیں سکتا
وہ کچھ پڑھتے ہوئے آگے مرے مدفن کے بیٹھے ہیں
یہ اٹھنا بیٹھنا محفل میں ان کا رنگ لائے گا
قیامت بن کے اٹھیں گے بھبوکا بن کے بیٹھے ہیں
کسی کی شامت آئے گی کسی کی جان جائے گی
کسی کی تاک میں وہ بام پر بن ٹھن کے بیٹھے ہیں
قسم دے کر انہیں یہ پوچھ لو تم رنگ ڈھنگ اس کے
تمہاری بزم میں کچھ دوست بھی دشمن کے بیٹھے ہیں
داغؔ دہلوی
Dagh Dehlvi

Comments
Post a Comment