Sabhi Kuch Hai Tera Diya Hoa , Sabhi Rahatein , Kalfatein Kabhi Suhbatein , Kabhi Furqatein , Kabhi Dooriyan ,Kabhi Qurbatein
سبھی کچھ ہے تیرا دیا ہوا، سبھی راحتیں، سبھی کلفتیں
کبھی صحبتیں، کبھی فرقتیں، کبھی دوریاں، کبھی قربتیں
Sabhi Kuch Hai Tera Diya Hoa , Sabhi Rahatein , Kalfatein
Kabhi Suhbatein , Kabhi Furqatein , Kabhi Dooriyan ,Kabhi Qurbatein
یہ سخن جو ہم نے رقم کیے، یہ ہیں سب ورق تری یاد کے
کوئی لمحہ صبح وصال کا کوئی شام ہجر کی مدتیں
جو تمہاری مان لیں ناصحا تو رہے گا دامن دل میں کیا
نہ کسی عدو کی عداوتیں نہ کسی صنم کی مروتیں
چلو آؤ تم کو دکھائیں ہم جو بچا ہے مقتل شہر میں
یہ مزار اہل صفا کے ہیں، یہ ہیں اہل صدق کی تربتیں
مری جان آج کا غم نہ کر کہ نجانے کاتب وقت نے
کسی اپنے کل میں بھی بھول کر کہیں لکھ رکھی ہوں مسرتیں
فیض احمد فیض
Faiz Ahmad Faiz

Comments
Post a Comment