Tujh Se Naraz Nahi Zindagi Hairan Hon Main Tere Masoom Sawalon Se Pareshan Hon



گلزار جن کا اصل نام سمپورن سنگھ کالڑا ہے
18 اگست 1934 کو پاکستان کے ضلع جہلم کے قصبہ دینہ میں پیدا ہوئے۔
ان کے والد کا نام مکھن سنگھ تھا جو چھوٹا موٹا کاروبار کرتے تھے۔گلزار ابھی دودھ پیتے بچے تھے کہ والدہ کا انتقال ہو گیا. اس لئے گلزار کا اپنا زیادہ وقت باپ کی دکان پر گزرا۔نصابی کتابوں سے ان کو زیادہ دلچسپی نہیں تھے اور انٹرمیڈئیٹ میں فیل بھی ہوئے لیکن ادب سے ان کو لڑکپن سے ہی گہرا لگاؤ تھا
تقسیم کے بعد گلزار کا خاندان پہلے امرتسر اور پھر دہلی میں خیمہ زن ہوا۔دہلی میں یہ لوگ سبزی منڈی کے علاقہ میں رہتے تھے. گلزار کو اک پٹرول پمپ پر ملازمت کرنی پڑی۔ پھر کچھ دن بعد تقدیر ان کو بمبئی کھینچ لے گئی۔دہلی ہو یا بمبئی گلزار کو شاعر بننے کی دھن تھی اور یہی انکی اصل محبت تھی۔ وہ انجمن ترقی پسند مصنفین کے جلسوں میں پابندی سے شریک ہوتے۔ 1960 میں مشہور فلمساز بمل رائے نے ان کی مدد کی اور اپنا اسسٹنٹ رکھ لیا. یہاں سے تقدیر نے پلٹا کھایا اور گلزار کا کامیابی کا سفر شروع ہوا
شروع میں ان کی ادبی تخلیقات پاکستان کے رسالوں میں شائع ہوئیں۔”فنون”کے مدیر احمد ندیم قاسمی نے بطور خاص ان کی سرپرستی اور رہنمائی کی۔ گلزار نے انھیں اپنا "بابا” بنا لیا اوران کے زبردست عقیدت مند بن گئے۔
مینا کماری کے ساتھ گلزار کا انتہائی قریبی جذباتی تعلق رہا. مینا کے انتقال کے بعد 15 مئی 1973 کو گلزار نے مشہور ہیروئن راکھی سے شادی کر لی. اس شادی سے ان کی اکلوتی بیٹی میگھنا گلزار ہیں جو ہدایتکارہ ہیں۔ میگھنا عرف بوسکی کی پیدائش کے کچھ ہی عرصہ بعد گلزار اور راکھی میں علیٰحدگی ہو گئی۔ لیکن طلاق کبھی نہیں ہوئی۔

منتخب کلام

تجھ سے ناراض نہیں زندگی حیران ہوں میں
تیرے معصوم سوالوں سے پریشاں ہوں
***
ذکر جہلم کا ہے ، بات ہے دِینے کی
چاند پکھراج کا ، رات پشمینے کی
کیسے اوڑھے گی اُدھڑی ہوئی چاندی
رات کوشش میں ہے چاند کو سینے کی
***
شام سے آنکھ میں نمی سی ہے
آج پھر آپ کی کمی سی ہے
***
ہاتھ چھوٹیں بھی تو رشتے نہیں چھوڑا کرتے
وقت کی شاخ سے لمحے نہیں توڑا کرتے
***
اپنے سائے سے چونک جاتے ہیں
عمر گزری ہے اس قدر تنہا
***
ایک ہی خواب نے ساری رات جگایا ہے
میں نے ہر کروٹ سونے کی کوشش کی
***
رُکے رُکے سے قدم رُک کے بار بار چلے
قرار دے کے ترے دَر سے بے قرار چلے
***
جب سے قریب ہوکے چلے زندگی سے ہم
خود اپنے آئینے کو لگے اجنبی سے


Comments

Popular posts from this blog

Dukh Ye Hai Mera Yousaf o Yaqoob Ke Khaliq Woh Log Bhi Bichdey Jo Bichadnay Ke Nahi Thay

Mere Tan Ke Zakham Na Gin Abhi Meri Aankh Mein Abhi Noor Hai

Mujh Se Meri Umar Ka Khasara Poochtay Hein Ya'ani Log Mujh Se Tumhara Poochtay Hein