Aariz Tere Gulab Se Kamtar Nahi Lagy Tujh Ko Nazar Kahein Butt e Aazar Nahi Lagy
عارِض ترے گُلاب سے کمتر نہیں لگے
تُجھ کو نظر کہیں بُتِ آذر نہیں لگے
Aariz Tere Gulab Se Kamtar Nahi Lagy
Tujh Ko Nazar Kahein Butt e Aazar Nahi Lagy
تیری ہی روشنی سےدمکتی ہے کائنات
تابِش میں مہر و ماہ بھی ہمسَر نہیں لگے
گُزرے ہیں اِسی راہ سے پہلے بھی کبھی ہم
آنکھوں کو اجنبی کئی منظر نہیں لگے
مُجھ کو دِیا نہیں کبھی ساقی نے بھر کے جام
کم میکدے میں بادہ و ساغر نہیں لگے
کُچھ دوست مل گئے مجھے ہِیروں سے قِیمتی
گو دیکھنے میں لعل و جواہر نہیں لگے
پردے نہیں اُٹھے کبھی کُھلتے نہیں ہیں راز
جب تک کہ راہِ عشق میں ٹھوکر نہیں لگے
ارشد لہُو لہان اکیلے نہیں ہو تم
کب حق کی بات کہنے پہ پتّھر نہیں لگے
مرزا ارشد علی بیگ
Mirza Arshad Ali Baig
آڈبان پینسلوانیا
Audubon, Pennsylvania, USA

Comments
Post a Comment