Khasara Ho Chuka Ab Sochnay Se Kia Hoga Katay Hein Par Tou Unhein Tolny Se Kia Hoga
خَسارہ ہو چکا اب سوچنے سے کیا ہو گا
کٹے ہیں پر تو اُنہیں تولنے سے کیا ہو گا
Khasara Ho Chuka Ab Sochnay Se Kia Hoga
Katay Hein Par Tou Unhein Tolny Se Kia Hoga
کِیا ہے راہ بدلنے کا فیصلہ اُس نے
وہ جا چکا ہے اُسے روکنے سے کیا ہو گا
نہ کیجے یاد گئی چاہتوں کے افسانے
پُرانے زخم ہیں یہ نوچنے سے کیا ہو گا
شریکِ راہ ہے کُچھ دیر غم گُسار میرا
مزید درد اُسے سونپنے سے کیا ہو گا
کئے ہیں راز اگر فاش میرے اپنوں نے
زبانِ غیر کو پِھر ٹوکنے سے کیا ہو گا
کہاں سمجھ ہے سگِ کُوچۂ دِل آرا کو
گُزر گیا ہے گدا بھونکنے سے کیا ہو گا
شکستہ دل میں ہوئی اور بھی کسک ارشد
پُرانے خط ہیں انہیں کھولنے سے کیا ہو گا
مرزا ارشد علی بیگ
Mirza Arshad Ali Baig
آڈبان پینسلوانیا
Audubon, Pennsylvania, USA

Comments
Post a Comment