Koi Phool Dhoop Ki Patiyun Mein Hare Rebin Se Bandha Hoa Woh Ghazal Ka Lehja Naya Naya Na Kaha Hoa , Na Suna Hoa
کوئی پھول دھوپ کی پتیوں میں ہرے رِبن سے بندھا ہوا
وہ غزل کا لہجہ نیا نیا نہ کہا ہوا ،نہ سُنا ہوا
Koi Phool Dhoop Ki Patiyun Mein Hare Rebin Se Bandha Hoa
Woh Ghazal Ka Lehja Naya Naya Na Kaha Hoa , Na Suna Hoa
جِسے لے گئی ھے ابھی ہوا وہ ورق تھا دِل کی کتاب کا
کہیں آنسوؤں سے مِٹا ہوا کہیں آنسوؤں سے لِکھا ہوا
کئی میل ریت کو کاٹ کر کوئی موج پھول کِھلا گئی
کوئی پیڑ پیاس سے مر رہا ھے ندی کے پاس کھڑا ہوا
مُجھے حادثوں نے سجا سجا کے بہت حسین بنا دیا
میرا دل بھی جیسے دُلہن کا ہاتھ جو ہو مہندیوں سے رَچا ہوا
وہی شہر ھے وہی راستے وہی گھر ھے اور وہی لان بھی
مگر اُس دریچے سے پُوچھنا وہ درخت اَنار کا کیا ہوا؟
میرے ساتھ جُگنو، اور جُگنو کی اِس سفر میں ہو گی بساط کیا
یہ چراغ کوئی چراغ ھے نہ جلا ہوا نہ بُجھا ہوا
وہ تھکا ہوا میری بانہوں میں ذرا سو گیا تھا تو کیا ہوا
ابھی میں نے دیکھا ھے چاند بھی کسی شاخِ گُل پہ جُھکا ہوا
میرے ساتھ ساتھ سدا رہا وہ میری نظر سے چُھپا ہوا
یہ عجیب ہِجر و وِصال ھے،نہ کبھی مِلا، نہ جُدا ہوا
وہی خط کہ جس پہ جگہ جگہ دو مَہکتے ہونٹوں کے چاند تھے
کِسی بُھولی بِسری سی طاق پر تہہِ گرد ہوگا دبا ہوا
بشیر بدر
Basheer Badar

Comments
Post a Comment