Lamhe Chahat Ke Muqadar Se Aata Hote Hein Qarz Kab Guzri Muhabbat Ke Ada Hote Hein
لمحے چاہت کے مُقدّر سے عطا ہوتے ہیں
قرض کب گُزری محبّت کے ادا ہوتے ہیں
Lamhe Chahat Ke Muqadar Se Aata Hote Hein
Qarz Kab Guzri Muhabbat Ke Ada Hote Hein
کُچھ حسیں چہروں کو پرکھا تو سمجھ میں آیا
کیسے آتے ہیں نظر اور وہ کیا ہوتے ہیں
سیکڑوں روز گُزرتے ہیں گلی سے اُسکی
اُسکو معلوم ہے کون اسکے گدا ہوتے ہیں
کاش یہ بات سمجھتے یہ طلب گارِ جہاں
کون رہتا ہے سدا سب ہی فنا ہوتے ہیں
لوگ کچھ ایسے بھی ملتے ہیں سفر میں ارشد
چند ناکردہ گناہوں کی سزا ہوتے ہیں
مرزا ارشد علی بیگ
Mirza Arshad Ali Baig
آڈبان پینسلوانیا
Audubon, Pennsylvania, USA

Comments
Post a Comment