Jate Hoe Ik Bar Tou Jee Bhar Ke Rulaein Mumkin Hai Keh Hum Aapko Phir Yaad Na Aaein
جاتے ہوئے اک بار تو جی بھر کے رُلائیں
ممکن ہے کہ ہم آپ کو پھر یاد نہ آئیں
Jate Hoe Ik Bar Tou Jee Bhar Ke Rulaein
Mumkin Hai Keh Hum Aapko Phir Yaad Na Aaein
ہم چھیڑ تو دیں گے ترا محبوب فسانہ
کھنچ آئیں گی فردوس کی مدہوش فضائیں
پھر تشنہ لبی زخم کی دیکھی نہیں جاتی
پھر مانگ رہا ہوں ترے آنے کی دعائیں
پھر بیت نہ جائے یہ جوانی یہ زمانہ
آؤ تو یہ اُجڑی ہوئی محفل بھی سجائیں
پھر لوٹ کے آئیں گے یہیں قافلے والے
اُٹھتی ہیں اُفق سے کئی غمناک صدائیں
شاید یہی شعلہ مری ہستی کو جلا دے
دیتا ہوں میں اڑتے ہوئے جگنو کو ہوائیں
اے کاش ترا پاس نہ ہوتا مرے دل کو
اٹھتی ہیں پر رک جاتی ہیں سینے میں صدائیں
اک آگ سی بھر دیتا ہے رگ رگ میں تبسّم
اس لطف سے اچھی ہیں حسینوں کی جفائیں
معبود ہو اُن کے ہی تصّور کی تجلّی
اے تشنہ لبو آؤ نیا دیر بنائیں
ہاں یاد تو ہو گا تمہیں راوی کا کنارہ
چاہو تو یہ ٹوٹا ہوا بربط بھی بجائیں
توبہ کو ندیمؔ آج تو قربان کرو گے
جینے نہیں دیتیں مجھے ساون کی گھٹائیں
احمد ندیمؔ قاسمی
Ahmad Nadeem Qasmi

Comments
Post a Comment