Kabhi Dil Se Juday Reshton Ki Paimaish Nahi Hoti Muhabbat Mein Kisi Kisi Ginti Ki Gunjaish Nahi Hoti
کبھی دِل سے جُڑے رِشتوں کی پیمائش نہیں ہوتی
محبّت میں کسی گِنتی کی گنجائش نہیں ہوتی
Kabhi Dil Se Juday Reshton Ki Paimaish Nahi Hoti
Muhabbat Mein Kisi Kisi Ginti Ki Gunjaish Nahi Hoti
دِکھاتے ہم نہ گر تجھ کو اے حُسنِ ناز آئینہ
بکھرتے کب تیرے گیسُو یہ آرائیش نہیں ہوتی
عُدو نے بِیج بوۓ ہیں میرے گُلشن میں کانٹوں کے
یہاں اب پیار کے پُھولوں کی افزائش نہیں ہوتی
محبّت جان لیتی ہے محبت کا حسیں جذبہ
کبھی اِظہار میں لفظوں کی آلائش نہیں ہوتی
اگر خُود حُسن کو منظُور اپنی دِید نہ ہوتی
زمین پہ چاند تاروں کی یہ زیبائش نہیں ہوتی
نہ ہوتا ذِکر گر تیرا میرے اشعار کی رونق
غزل سُننے کی اس محفِل میں فرمائیش نہیں ہوتی
پنپنے ہی نہیں دیتا یہ احساسِ خطا ارشد
میسّر گر مجھے توبہ کی آسائش نہیں ہوتی
مرزا ارشد علی بیگ
Mirza Arshad Ali Baig
آڈبان پینسلوانیا
Audubon, Pennsylvania, USA
.jpg)
Comments
Post a Comment