Kabhi Kabhi Yaad Mein Ubharte Hein Naqsh Mazi Mity Mity Se Woh Aazmaish Dil o Nazar Ki Woh Qurbatein See , Woh Fasly Se
کبھی کبھی یاد میں ابھرتے ہیں نقش ماضی مٹے مٹے سے
وہ آزمائش دل و نظر کی وہ قربتیں سی، وہ فاصلے سے
Kabhi Kabhi Yaad Mein Ubharte Hein Naqsh Mazi Mity Mity Se
Woh Aazmaish Dil o Nazar Ki Woh Qurbatein See , Woh Fasly Se
کبھی کبھی آرزو کے صحرا میں آ کے رکتے ہیں قافلے سے
وہ ساری باتیں لگاؤ کی سی، وہ سارے عنواں وصال کے سے
نگاہ و دل کو قرار کیسا نشاط و غم میں کمی کہاں کی
وہ جب ملے ہیں تو ان سے ہر بار کی ہے الفت نئے سرے سے
بہت گراں ہے یہ عیش تنہا کہیں سبک تر، کہیں گوارا
وہ درد پنہاں کہ ساری دنیا رفیق تھی جس کے واسطے سے
تمہیں کہو رند و محتسب میں ہے آج شب کون فرق ایسا
یہ آ کے بیٹھے ہیں میکدے میں، وہ اٹھ کے آئے ہیں میکدے سے
فیض احمد فیضؔ
Faiz Ahmad Faiz

Comments
Post a Comment