Mere Khayal Meri Khuwahishon Se Waqif Hai Tu Meri Soch Ke Sab Zaviyun Se Waqif Hai
میرے خیال میری خواہشوں سے واقف ہے
تُو میری سوچ کے سب زاویوں سے واقف ہے
Mere Khayal Meri Khuwahishon Se Waqif Hai
Tu Meri Soch Ke Sab Zaviyun Se Waqif Hai
دُعا کو ہاتھ اُٹھاؤں تو کیا کہوں مولا
تُو میرے حال کی سب صورتوں سے واقف ہے
جہاں میں لوگ لگاتے ہیں روح کو چرکے
میرے خُدا تو میری وحشتوں سے واقف ہے
میں اپنے حق میں کہوں کُچھ تو کِسطرح سے کہ تو
ہر ایک جٗھوٹ سے سب تہمتوں سے واقف یے
سپرد کر دیا ہر اُس کو معاملہ ارشد
جو سب کی اصل سے اور قامتوں سے واقف ہے
مرزا ارشد علی بیگ
Mirza Arshad Ali Baig
مکہ مکرمہ
Makka Mukarma

Comments
Post a Comment