Dil Mera Ik Kitab Ki Soorat Jis Mein Woh Hai Gulab Ki Soorat
دل میرا اک کتاب کی صورت
جس میں وہ ہے گلاب کی صورت
Dil Mera Ik Kitab Ki Soorat
Jis Mein Woh Hai Gulab Ki Soorat
ہم سے پوچھو کہ ہم گزار آئے
زندگی کو عذاب کی صورت
حسن کچّے گھڑے کا شیدائی
عشق موجِ چناب کی صورت
عشق میں اس طرح نہیں ہوتا
یہ نہیں ہے نصاب کی صورت
میں کڑی دوپہر کی تنہائی
وہ شبِ ماہتاب کی صورت
پوچھتا ہے کہ میری غزلوں میں
کون ہے اضطراب کی صورت
میں وفا کی وہی پرانی کتاب
وہ نئے انتساب کی صورت
جو نہیں کرسکے کبھی، وہ سوال
اُس نے لکھا جواب کی صورت
نوشی گیلانی
Noshi Gailani

Comments
Post a Comment