Abhi Na Jao Chorh Kar Keh Dil Abhi Bhara Nahi
ابھی نہ جاؤ چھوڑ کر
کہ دل ابھی بھرا نہیں
Abhi Na Jao Chorh Kar
Keh Dil Abhi Bhara Nahi
ابھی ابھی تو آئے ہو
بہار بن کے چھائے ہو
ہوا ذرا مہک تو لے
نظر ذرا بہک تو لے
یہ شام ڈھل تو لے ذرا
یہ دل سنبھل تو لے ذرا
میں تھوڑی دیر جی تو لوں
نشے کے گھونٹ پی تو لوں
ابھی تو کچھ کہا نہیں
ابھی تو کچھ سُنا نہیں
ستارے جھلملا اُٹھے
چراغ جگمگا اُٹھے
بس اب نہ مجھ کو ٹوکنا
نہ بڑھ کے راہ روکنا
اگر میں رُک گیا ابھی
تو جا نہ پاؤں گا کبھی
یہی کہو گے تم سدا
کہ دل ابھی نہیں بھرا
جو ختم ہو کسی جگہ
یہ ایسا سلسلہ نہیں
ابھی نہیں , ابھی نہیں
نہیں نہیں.. نہیں نہیں
ابھی نہ جاؤ چھوڑ کر
کہ دل ابھی بھرا نہیں
ادھوری آس چھوڑ کے
جو روز یونہی جاؤ گے
تو کس طرح نبھاؤ گے
کہ زندگی کی راہ میں
جواں دلوں کی چاہ میں
کئی مقام آئیں گے
جو ہم کو آزمائیں گے
بُرا نہ مانو بات کا
یہ پیار ہے، گلہ نہیں
ابھی نہ جاؤ چھوڑ کر
کہ دل ابھی بھرا نہیں
یہی کہو گے تم صدا
کہ دل ابھی بھرا نہیں
ہاں دل ابھی بھرا نہیں
نہیں نہیں.. نہیں نہیں
ساحر لدھیانوی
Sahir Ludhyanvi

Comments
Post a Comment