Ain Khuwahish Ke Ulat Apna Muqadar Daikha Hum Ne Ruk Ruk Ke Kai Bar Woh Manzar Daikha
عین خواہش کے اُلٹ اپنا مقدر دیکھا
ہم نے رُک رُک کے کئی بار وہ منظر دیکھا
Ain Khuwahish Ke Ulat Apna Muqadar Daikha
Hum Ne Ruk Ruk Ke Kai Bar Woh Manzar Daikha
تم کتابوں میں فقط عشق کو پڑھتے آئے
دُور سے دشت کو دیکھا، نہیں چل کر دیکھا
اُس کی آنکھوں میں بڑی ہم نے مہارت دیکھی
بند کوزے میں کیا کیسے سمندر دیکھا
اپنا اِس بار ارادہ تو محبت کا تھا
اور اِس بار اکیلے ہی دسمبر دیکھا
ہجر کی کوئی ریاضت کہ کرامت ہو گی
سامنے دل نے، تجھے آنکھ نے اندر دیکھا
ہم کو دنیا میں کوئی ہم سا ملے خواہش تھی
اک عجب شوق تھا جس شوق میں مل کر دیکھا

Comments
Post a Comment