Dil Kisi Aik Jagah Aa Ke Theharta Bhi Nahi Dobta Bhi Nahi Kambakht , Ubharta Bhi Nahi
دل کسی ایک جگہ آ کے ٹھہرتا بھی نہیں
ڈوبتا بھی نہیں کمبخت، ابھرتا بھی نہیں
Dil Kisi Aik Jagah Aa Ke Theharta Bhi Nahi
Dobta Bhi Nahi Kambakht , Ubharta Bhi Nahi
خود کو پا لینے کا نشّہ بھی عجب نشّہ ہے
ہوش کھونے بھی نہیں دیتا، اترتا بھی نہیں
وقت بدلا بھی تو ہے صورتِ حالات وہی
میں کہ جیتا بھی نہیں، جاں سے گزرتا بھی نہیں
زخم بھی تُو نے دیا اپنی محبت کی طرح
کھل کے رِستا بھی نہیں، ٹھیک سے بھرتا بھی نہیں
صرف بسمل کیے رکھتا ہے تری بات کا تیر
آ کے لگتا بھی ہے سینے میں، اترتا بھی نہیں
نعیم ضرار
Naeem Zarar

Comments
Post a Comment