Fiza Mein Parendon Ki Chehkar Kia Thi Kahani See Darya Ke Us Paar Kia Thi
فضا میں پرندوں کی چہکار کیا تھی
کہانی سی دریا کے اُس پار کیا تھی
Fiza Mein Parendon Ki Chehkar Kia Thi
Kahani See Darya Ke Us Paar Kia Thi
اچانک نکل آیا بستی میں سورج
مری آرزوؤں کی رفتار کیا تھی
جو اقرار کی سب حدیں مٹ گئیں تھیں
شبِ وصل وہ طرزِ انکار کیا تھی
منانا پڑا فتح کا جشن مجھ کو
مری جیت کیاتھی، مری ہار کیا تھی
ہمیشہ مجھے ہجر میں اُس نے رکھا
نجانے محبت کی مہکار کیا تھی
بھرے شہر میں رہ گیا وہ اکیلا
یہ لڑکی کسی کی طرفدار کیا تھی
کبھی تیرے سپنے میسر نہ آئے
مرے ساتھ شب ہائے بیدار کیا تھی
کوئی درد تھا یا سندیسہ تھا کوئی
اُن انکھوں میں اشکوں بھری دھار کیا تھی
کبھی مجھ پہ کُھل جا اے صبحِ گریزاں
بتا رتجگوں کی وہ تکرار کیا تھی
صدف میں کبھی خود سے ملنے نہ پائی
مرے درمیاں کوئی دیوار کیا تھی
رقیب آئے میری عیادت کی خاطر
یہ صغرا صدف تیری بیمار کیا تھی
صغرا صدف
Sughra Sadaf

Comments
Post a Comment