Humari Simt Zara Ab Woh Daikhta Kam Hy Ta'aluqat Toh Behtar Hein Wasta Kam Hy
ہماری سمت ذرا اب وہ دیکھتا کم ہے
تعلقات تو بہتر ہیں واسطہ کم ہے
Humari Simt Zara Ab Woh Daikhta Kam Hy
Ta'aluqat Toh Behtar Hein Wasta Kam Hy
ملا تو کرتا ہے سب سے وہ مسکراتے ہوئے
مگر خلوص جسے کہیے وہ ذرا کم ہے
خلوص و پیار کے چرچے ہیں ہر طرف لیکن
اس عہد نو میں مگر دوستو وفا کم ہے
ہمیشہ ہچکیاں آتی ہیں ان کی یادوں کی
یہ کس نے کہہ دیا یادوں کا سلسلہ کم ہے
میں مصلحت سے تعلق ذرا نہیں رکھتا
یہی سبب ہے کہ لوگوں سے رابطہ کم ہے
حسین اس لیے خود کو سبھی سمجھتے ہیں
کہ اپنے شہر میں اے نورؔ آئینہ کم ہے
نورؔ قریشی
NOOR QURESHI

Comments
Post a Comment