Woh Baat Baat Mein Itna Badalta Jata Hai Keh Jis Tarah Koi Lehja Badalta Jata Hai
وہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہے
کہ جس طرح کوئی لہجہ بدلتا جاتا ہے
Woh Baat Baat Mein Itna Badalta Jata Hai
Keh Jis Tarah Koi Lehja Badalta Jata Hai
یہ آرزو تھی کہ ہم اس کے ساتھ ساتھ چلیں
مگر وہ شخص تو رستہ بدلتا جاتا ہے
رتیں وصال کی اب خواب ہونے والی ہیں
کہ اس کی بات کا لہجہ بدلتا جاتا ہے
رہا جو دھوپ میں سر پر مرے وہی آنچل
ہوا چلی ہے تو کتنا بدلتا جاتا ہے
وہ بات کر جسے دنیا بھی معتبر سمجھے
تجھے خبر ہے زمانہ بدلتا جاتا ہے
شاعر: نوشی گیلان
Poetess:Noshi Gailani

Comments
Post a Comment