Ae Dil Dilnawaz Banta Hai Soz Hota Hai ,Saaz Banta Hai
اے دلِ دلنواز بنتا ہے
سوز ہوتا ہے، ساز بنتا ہے
Ae Dil Dilnawaz Banta Hai
Soz Hota Hai ,Saaz Banta Hai
آخری گفتگو کی تلخی پر
چھوڑنے کا جواز بنتا ہے
اس جہان ستم میں رب کے سوا
کب کوئی چارہ ساز بنتا ہے
اتنا نا آشنا نہیں مجھ سے
جس قدر بے نیاز بنتا ہے
جتنی روشن خدا نے دیں اس کو
اس کا آنکھوں پہ ناز بنتا ہے
خوشنما شخص ہے سو ہر اک کا
اس قدر ارتکاز بنتا ہے
جس طرح ہم نے زندگی جھیلی
تمغۂ امتیاز بنتا ہے
خوں سے سینچیں سخن تو تب جا کر
کوئی احمد فرازؔ بنتا ہے
کومل جوئیہ
Komal Joya

Comments
Post a Comment