Barish Achanak Tez Ho Gai Hai
بارش اچانک تیز ہو گئی ہے
Barish Achanak Tez Ho Gai Hai
تمھیں اُن خطوں کے ملنے کی امید ہے
جو کبھی پوسٹ نہیں کیے گئے
اور میں وہ نظمیں بھیجتا رہتا ہوں
جو کبھی لکھی نہیں جائیں گی
ہم دونوں
ایک طوالت پذیر خواب کی واماندگی میں
ایک دوسرے کی آنکھوں میں جاگ رہے ہیں
اور اس خواب سے باہر
طلوع و غروب کا کھیل جاری ہے
دن اور زمانہ کوئی بھی ہو
محبت کرنے والوں کے لیے رک کر نہیں دیکھتا
کچھ دن طلوع ہونے سے پہلے غروب ہو جاتے ہیں
اور کچھ محبتیں پروان چڑھے بغیر ختم ہو جاتی ہیں
جیسے کچھ خط لکھے بغیر پوسٹ کر دیے جاتے ہیں
اور کچھ لکھے پڑے رہ جاتے ہیں
نصیر احمد ناصر
Naseer Ahmad Naseer

Comments
Post a Comment