Charh Hoa Hai Jo Darya Utarne Wala Hai Ab Is Kahani Ka Kirdar Marne Wala Hai
چڑھا ہوا ہے جو دریا، اترنے والا ہے
اب اس کہانی کا کردار مرنے والا ہے
Charh Hoa Hai Jo Darya Utarne Wala Hai
Ab Is Kahani Ka Kirdar Marne Wala Hai
یہ آگہی ہے کسی حادثے کے آمد کی
بدن کا سارا اثاثہ بکھرنے والا ہے
ذرا سی دیر میں زنجیر ٹوٹ جائے گی
جنون اپنی حدوں سے گزرنے والا ہے
سنا ہے شہر میں آیا ہے جادو گر کوئی
تمام شہر کو تصویر کرنے والا ہے
تمام شہر بنایا گیا ہے آئینہ
یہ آج کس کا سراپا سنورنے والا ہے
شکیلؔ ہم سے کسی کو شکایتیں ہیں بہت
چلو کوئی تو ہمیں پیار کرنے والا ہے
شکیلؔ اعظمی
Shakeel Aazmi

Comments
Post a Comment