Dard Sunti Hai Delasa Nahi Deti Deewar Aa Ke Baithy Hon Toh Saya Nahi Deti Deewar
درد سنتی ہے دلاسہ نہیں دیتی دیوار
آ کے بیٹھی ہوں تو سایہ نہیں دیتی دیوار
Dard Sunti Hai Delasa Nahi Deti Deewar
Aa Ke Baithy Hon Toh Saya Nahi Deti Deewar
لڑکھڑاتی ہے مرے ہاتھ کو تھامے تھامے
ساتھ چلتی ہے سہارا نہیں دیتی دیوار
لا مکاں اور مکاں سر پہ بھی گر سکتے تھے
بام و در کو جو سنبھالا نہیں دیتی دیوار
جشن کی طرح مناتی ہے اکیلے پن کو
اور مجھ کو بھی بلاوہ نہیں دیتی دیوار
کیسے آواز کو، خوشبو کو صبا کو روکے
صرف ہم ہیں جنھیں رستہ نہیں دیتی دیوار
گر گئی ہے تو چلو راہگزر ہی بن جائے
یہ رعایت بھی دوبارہ نہیں دیتی دیوار
گھر الگ ہی سہی، دل ساتھ تو رہ سکتے ہیں
آج اتنا بھی بھروسہ نہیں دیتی دیوار
یعنی لگ جاتے ہیں دیوار سے ہم اہلِ جنوں
اور خطرے کا اشارہ نہیں دیتی دیوار

Comments
Post a Comment