Ik Haseen Ko Dil Dy Kar Bataein Kia Paaya Lizzat Fana Chakhy Zeest Ka Maza Paaya
اک حسیں کو دل دے کر کیا بتائیں کیا پایا
لذت فنا چکھی زیست کا مزا پایا
Ik Haseen Ko Dil Dy Kar Bataein Kia Paaya
Lizzat Fana Chakhy Zeest Ka Maza Paaya
منزلوں کی سختی کا غم نہیں خوشی یہ ہے
کس ہجوم حسرت میں ہم نے راستہ پایا
قدر اس کی پہچانیں آپ یا نہ پہچانیں
اپنے دل کو ہم نے تو حسب مدعا پایا
بے خودی کی حسرت کیا بے سبب میں کرتا تھا
آ کے ہوش میں سمجھا بے خودی میں کیا پایا
شیخ یہ تہی ساغر ہاں اسی کو ساقی نے
میرے کام کا پایا یا تیرے کام کا پایا
حسرتیں سراسیمہ ہر طرف نظر آئیں
کاروان دل میں نے پھر لٹا ہوا پایا
میری مستیاں سمجھیں تیری شوخیاں جانیں
تو نے کیا لیا مجھ سے میں نے تجھ سے کیا پایا
سب یہ رنگ آمیزی ہے فقط تخیل کی
کیا بتاؤں کیا کھویا کیا جتاؤں کیا پایا
پاس بیٹھ کر میرے دیکھتے نہیں مجھ کو
ان کی شرم کو میں نے صبر آزما پایا
سعی پیہم اے منظورؔ اس قدر نشاط افزا
ناامید کس سے تھے کس سے یہ صلہ پایا
عـــــــــلی مـنظــــــــور حیـــــــدر آبادی
Ali Manzoor Haidarabadi

Comments
Post a Comment