Is Qadar Chahiye Thoda Sa Karam Aaj Ke Bad Charagar Aapka Reh Jaye Bharam Aaj Ke Bad
اس قدر چاہیے تھوڑا سا کرم آج کے بعد
چارہ گر آپ کا رہ جائے بھرم آج کے بعد
Is Qadar Chahiye Thoda Sa Karam Aaj Ke Bad
Charagar Aapka Reh Jaye Bharam Aaj Ke Bad
اس نے بھیگی ہوئی آنکھوں سے کہا تھا مجھ سے
دیکھ پائیں گے نہیں چشم یہ نم آج کے بعد
آج کے بعد بھی زخموں کو ہرا رکھنا ہے
بھول جائے نہ وہ اندازِ ستم آج کے بعد
اس قدر خواب کہ تعبیر بھی شرمندہ ہے
اب نہ دیکھیں گے کوئی خواب صنم آج کے بعد
چوٹ کھائی ہے نااب تم کو سمجھ آئے گی
کیسے سہتے ہیں دیے اپنوں کے غم آج کے بعد
بات اب صرف انا کی ہے گِلہ کوئی نہیں
تیری محفل میں نہیں آئیں گے ہم آج کے بعد
فرزانہ ساجد
Farzana Sajid

Comments
Post a Comment