Jan Se Apni Guzar Bhi Sakti Hon Dil Ke Zakhmon Ko Bhar Bhi Sakti Hon
جاں سےاپنی گزر بھی سکتی ہوں
دل کے زخموں کو بھر بھی سکتی ہوں
Jan Se Apni Guzar Bhi Sakti Hon
Dil Ke Zakhmon Ko Bhar Bhi Sakti Hon
چھوڑ یہ بام و در بھی سکتی ہوں
تیری خاطر ٹھہر بھی سکتی ہوں
آخری سانس تک نبھاؤں گی
میں جو کہتی ہوں، کر بھی سکتی ہوں
یہ جنوں ہے تری محبت کا
مار سکتی ہوں، مر بھی سکتی ہوں
اس لیے جا رہی ہوں محفل میں
اُس نظر سے گزر بھی سکتی ہوں
خواب اتنے عزیز ہیں مجھ کو
ان کا تاوان بھر بھی سکتی ہوں
آسمانوں کا فاصلہ کیا ہے
میں وہاں پاؤں دھر بھی سکتی ہوں
تُو اگر پیار سے مجھے دیکھے
تیری خاطر سنور بھی سکتی ہوں
میں ترے مہربان چشمے سے
اپنی چھاگل کو بھر بھی سکتی ہوں
اے تخیل تری ہتھیلی پر
دیکھ شمس و قمر بھی سکتی ہوں
وہ اگر پیار سے کہے تو کنولؔ
خود کو تبدیل کر بھی سکتی ہوں
کنولؔ ملک
Kanwal Malik

Comments
Post a Comment