Kam Thay Pal Kar e Dilbary Ke Liye Hum Mily Bhi Toh Do Gharhi Ke Liye
کم تھے پل کارِ دلبری کے لیے
ہم ملے بھی تو دو گھڑی کے لیے
Kam Thay Pal Kar e Dilbary Ke Liye
Hum Mily Bhi Toh Do Gharhi Ke Liye
کتنے جھگڑے کیے دماغ کے ساتھ
ہم نے دل ایسے سازشی کے لیے
کتنے آنسو خفا کیے _ میں نے
ایک بے ساختہ ہنسی کے لیے
دل سرائے نہیں کہ کھل جائے
وقت بے وقت ہر کسی کے لیے
میں نے جھیلی ہیں خود پہ زرد رتیں
تیری آنکھوں کی سبزگی کے لیے
روز کی گفتگو بھلے نہ سہی
دے اجازت کبھی کبھی کے لیے
لے کے پھرتے ہیں چاکِ دل اپنا
کوئی ہوتا رفو گری کے لیے
کومل جوئیہ
Komal Joya

Comments
Post a Comment