Madeenay Ka Safar Hai Aur Main Nameeda Nameeda Jabeen Afsurda Afsurda Qadam Laghzeeda Laghzeeda
مدینے کا سفر ہے اور میں نمدیدہ نمدیدہ
جبیں افسردہ افسردہ قدم لغزیدہ لغزیدہ
Madeenay Ka Safar Hai Aur Main Nameeda Nameeda
Jabeen Afsurda Afsurda Qadam Laghzeeda Laghzeeda
چلا ہوں ایک مجرم کی طرح میں جانبِ طیبہ
نظر شرمندہ شرمندہ بدن لرزیدہ لرزیدہ
کسی کے ہاتھ نے مجھ کو سہارا دے دیا ورنہ
کہاں میں اور کہاں یہ راستے پیچیدہ پیچیدہ
غلامانِ محمّد دُور سے پہچانے جاتے ہیں
دلِ گرویدہ گرویدہ سرِ شوریدہ شوریدہ
کہاں میں اور کہاں اُس روضۂِ اقدس کا نظارہ
نظر اُس سمت اٹھتی ہے مگر دُزدیدہ دُزدیدہ
بصارت کھو گئی لیکن بصیرت تو سلامت ہے
مدینہ ہم نے دیکھا ہے مگر نادیدہ نادیدہ
وہی اقبال جس کو ناز تھا کل خوش مزاجی پر
فراقِ طیبہ میں رہتا ہے اب رنجیدہ رنجیدہ
سید اقبال عظیم
Sayed Iqbal Azeem
Comments
Post a Comment