Nahi Keh Apna Zamana Bhi Toh Nahi Aaya Humain Kisi Se Nebhana Bhi Toh Nahi Aaya
نہیں کہ اپنا زمانہ بھی تو نہیں آیا
ہمیں کسی سے نبھانا بھی تو نہیں آیا
Nahi Keh Apna Zamana Bhi Toh Nahi Aaya
Humain Kisi Se Nebhana Bhi Toh Nahi Aaya
جلا کے رکھ لیا ہاتھوں کے ساتھ دامن تک
تمہیں چراغ بجھانا بھی تو نہیں آیا
نئے مکان بنائے تو فاصلوں کی طرح
ہمیں یہ شہر بسانا بھی تو نہیں آیا
وہ پوچھتا تھا مری آنکھ بھیگنے کا سبب
مجھے بہانہ بنانا بھی تو نہیں آیا
وسیمؔ دیکھنا مڑ مڑ کے وہ اسی کی طرف
کسی کو چھوڑ کے جانا بھی تو نہیں آیا
وسیمؔ بریلوی
Waseem Brelvi

Comments
Post a Comment