Rabta Na Rakhny Se Yeh Toh Man Sakta Hon
رابطہ نہ رکھنے سے
یہ تو مان سکتا ہوں
Rabta Na Rakhny Se
Yeh Toh Man Sakta Hon
گفتگو نہیں ہو گی
گفتگو نہ ہونے سے
کیا یقین ہے تم کو
آرزو نہیں ہو گی
جستجو نہیں ہو گی
کیا تمہیں یہ لگتا ہے
دل تمہیں بھُلا دے گا
کوئی بد دعا دے گا
دل تمہارا ہو کر بھی
اور کو جگہ دے گا
کیا تمہیں یہ لگتا ہے
وقت کی روانی میں
اس جہانِ فانی میں
تُو نہیں تو لاکھوں ہیں
جن کو دیکھ کر یہ دل
پھر سے مسکرائے گا
تم کو بھول جائے گا
یاد بھی نہیں ہو گا
کوئی ایک ایسا تھا
جس میں جان تھی اپنی
جس پہ جان دیتے تھے
جو کسی کا ہو کر بھی
بس فقط ہمارا تھا
تم اگر یہ سمجھے ہو
گفتگو نہ ہونے سے
کچھ بھی ایسا ممکن ہے
یہ تمہاری غلطی ہے
پیار کی کتابوں میں
عشق کے صحیفوں میں
اک مثال بھی ایسی
تم نہیں دکھا سکتے
جو دلیل دیتی ہو
سلسلہ محبت کا
رابطوں سے قائم ہو
فضل الرحمن
Fazlurehman

Comments
Post a Comment