Raqs Karte Hoe Sadqa Bhi Utara Jaye Kaise Mumkin Hai Tujhe Jeet Ke Hara Jaye
رقص کرتے ہوئے صدقہ بھی اُتارا جائے
کیسے ممکن ہے تجھے جیت کے ہارا جاۓ
Raqs Karte Hoe Sadqa Bhi Utara Jaye
Kaise Mumkin Hai Tujhe Jeet Ke Hara Jaye
ایک بھی شخص بھری بھیڑ میں اپنا نہیں ہے
ایسے حالات میں کس کس کو پکارا جائے
شہرِ قاتل ہے یہ، انسان کہاں بستے ہیں
آدمی آدمی کے ہاتھوں سے مارا جائے
عشق کے کھیل میں انعام کہاں ملتا ہے
اس میں تو جیت کے بھی سارے کا سارا جاۓ
مجھ پہ لازم ہے رکھوں میں ترے جذبوں کا خیال
چاہتی ہوں مجھے ہر آن پکارا جاۓ
مانگتے کب ہیں دعا لوگ ثمینہ سید
چاہتے سب ہیں کہ بس خوان اُتارا جائے
ثمینہ سید
Samina Sayed

Comments
Post a Comment