Sochta Hon Keh Buhat Sada o Masoom Hai Woh Main Abhi Usko Shanasaye Muhabbat Na Karon
سوچتا ہوں کہ بہت سادہ و معصوم ہے وہ
میں ابھی اس کو شناسائے محبت نہ کروں
Sochta Hon Keh Buhat Sada o Masoom Hai Woh
Main Abhi Usko Shanasaye Muhabbat Na Karon
روح کو اس کی اسیر غم الفت نہ کروں
اس کو رسوا نہ کروں، وقف مصیبت نہ کروں
سوچتا ہوں کہ ابھی رنج سے آزاد ہے وہ
واقف درد نہیں خوگر آلام نہیں
سحر عیش میں اس کی _ اثر شام نہیں
زندگی اس کے لیے زہر بھرا جام نہیں
سوچتا ہوں کہ محبت ہے جوانی کی خزاں
اس نے دیکھا نہیں دنیا میں بہاروں کے سوا
نکہت و نور سے لبریز نظاروں کے سوا
سبزہ زاروں کے سوا اور ستاروں کے سوا
سوچتا ہوں کہ غم دل نہ سناؤں اس کو
سامنے اس کے کبھی راز کو عریاں نہ کروں
خلش دل سے اسے دست و گریباں نہ کروں
اس کے جذبات کو میں شعلہ بداماں نہ کروں
سوچتا ہوں کہ جلا دے گی محبت اس کو
وہ محبت کی بھلا تاب کہاں لائے گی
خود تو وہ آتش جذبات میں جل جائے گی
اور دنیا کو اس انجام پہ تڑپائے گی
سوچتا ہوں کہ بہت سادہ و معصوم ہے وہ
میں اسے واقف الفت نہ کروں
ن م راشد
N.M.Rashid

Comments
Post a Comment