UN SE KEH NAHI PATI
"اُن سے کہہ نہیں پاتی"
''UN SE KEH NAHI PATI''
اُن سے کہہ نہیں پاتی
بات بُھول جاتے ہیں
جب کہوں کہ جانِ جاں
آج ایسا کرتے ہیں
آج اپنے دَردوں کو
چُن کے پیار کرتے ہیں
ٹھیس پہنچی ہم سے جو
اُن کو ہم مَناتے ہیں
گَر سمجھ نہیں آتا
کیا کہیں گے ہاتھوں کو
تُم کو درد کیوں پہنچا
سارے کام ہاتھوں کے
پھر بھی نَا رَوا اُلجھن
گَر سمجھ نہیں آتا
چارہ گَر سے کہتے ہیں
لو ہمیں دَوا دے دو
ہاتھ ہم سے روٹھے ہیں
اِن کو کچھ دَوا دے دو
بات بُھول جاتے ہیں
بات بُھول جانے سے
پھر مجھے یہ لگتا ہے
ٹالتے ہیں وہ مُجھ کو
اُن سے کہہ نہیں پاتی
اِک زرا سا لہجہ کے
اِتنا سا بدلنے پہ
دل یہ ٹُوٹ جاتا ہے
اُن سے کہہ نہیں پاتی
فائزہ صابری نوا
Faiza Sabiry Nawa

Comments
Post a Comment