Yar Ko Ragbat Aghyar Na hone Paye Gul Tar Ko Hos Khar Na Hone Paye
یار کو رغبت اغیار نہ ہونے پائے
گل تر کو ہوس خار نہ ہونے پائے
Yar Ko Ragbat Aghyar Na hone Paye
Gul Tar Ko Hos Khar Na Hone Paye
اس میں در پردہ سمجھتے ہیں وہ اپنا ہی گلہ
شکوۂ چرخ بھی زنہار نہ ہونے پائے
فتنۂ حشر جو آنا تو دبے پاؤں ذرا
بخت خفتہ مرا بیدار نہ ہونے پائے
ہائے دل کھول کے کچھ کہہ نہ سکے سوز دروں
آبلے ہم سخن خار نہ ہونے پائے
باغ کی سیر کو جاتے تو ہو پر یاد رہے
سبزہ بیگانہ ہے دو چار نہ ہونے پائے
جمع کر لیجئے غمزوں کو مگر خوبئ بزم
بس وہیں تک ہے کہ بازار نہ ہونے پائے
آپ جاتے تو ہیں اس بزم میں لیکن شبلیؔ
حال دل دیکھیے اظہار نہ ہونے پائے
شبلی نعمانی
Shibly Noumani

Comments
Post a Comment