Yeh Zian Khana Muhabbat Hai
یہ زیاں خانۂ محبت ہے
Yeh Zian Khana Muhabbat Hai
آنکھ ہے گُمشُدہ جزیروں میں
اور پلکوں پہ رات ٹھہری ہے
لگ رہا ہے حیات ٹھہری ہے
اِس دل ِ کم سخن کی بیتابی
بہر آشفتگی غنیمت ہے
پاس ِ وحشت بھی اِک ہزیمت ہے
ہم جو اب تک گُماں کی قید میں تھے
اِس عذاب مفارقت سے اگر
بچ گئے ہیں تو معجزہ ہی سمجھ
اپنے مابین فاصلہ ہی سمجھ
نارسائی کا اِک گِلہ ہی سمجھ
تُو گمانوں کا سلسلہ ہی سمجھ
ڈوب جانے کا فیصلہ ہی سمجھ
کون اُبھرا ہے بحر ِ غم سے یہاں
یہ زیاں خانۂ محبت ہے
شاہین مفتی
Shaheen Mufty

Comments
Post a Comment