Kabhi Jo Mudaton Ke Bad Uska Samna Hoga Siwaye Pas Aadab Takaluf Aur Kia Hoga
کبھی جو مدتوں کے بعد اُس کا سامنا ہو گا
سوائے پاس آداب تکلف اور کیا ہو گا
Kabhi Jo Mudaton Ke Bad Uska Samna Hoga
Siwaye Pas Aadab Takaluf Aur Kia Hoga
یہاں وہ کون ہے جو انتخابِ غم پہ قادر ہے
جو مل جائے گا، وہ ہی دوستوں کا مدّعا ہو گا
صلیبِ وقت پر میں نے پکارا تھا محبّت کو
میری آواز جس نے بھی سنی ہو گی، ہنسا ہو گا
ہمارے شوق کے آسُودہ و خوشحال ہونے تک
تمہارے عارض و گیسو کا سودا ہو چکا ہو گا
ہنسی آتی ہے مجھ کو مصلحت کے اِن تقاضوں پر
کہ اب ایک اجنبی بن کر اُسے پہچاننا ہو گا
دلیلوں سے دوا کا کام لینا سخت مشکل ہے
مگر اس غم کی خاطر یہ ہنر بھی سیکھنا ہو گا
ہے نصف شب، وہ دیوانہ ابھی تک نہیں آیا
کسی سے چاندنی راتوں کا قصّہ چِھڑ گیا ہو گا
جون ایلیا
Joun Elia

Comments
Post a Comment