Ankh Jo Bhi Teri Aankhon Se Mila Baithta Hai Qais Ke Halqa e Ahbaab Mein Ja Baithta Hai
آنکھ جو بھی تری آنکھوں سے ملا بیٹھتا ہے
قیس کے حلقۂ احباب میں جا بیٹھتا ہے
Ankh Jo Bhi Teri Aankhon Se Mila Baithta Hai
Qais Ke Halqa e Ahbaab Mein Ja Baithta Hai
مستقل کیسے رہے جسم کے خطے کا نظام
حکمراں روز مرے دل میں نیا بیٹھتا ہے
اک طرف دل ہے ترا، ایک طرف میرا مکاں
دیکھنا یہ ہے کہ سیلاب میں کیا بیٹھتا ہے
دارِ دنیا مری پیشانی کو چوکھٹ نہ دکھا
یہ وہ مسند ہے جہاں صرف خدا بیٹھتا ہے
دھوپ کے وقت شجر گود میں لیتا ہے مجھے
رات ہو جائے تو پہرے پہ دیا بیٹھتا ہے
دل محبت میں اضافے کی طلب کرتے ہوئے
دوسرے عشق میں پہلا بھی گنوا بیٹھتا ہے
یہ بھی ٹھکرایا ہوا لگتا ہے تیرے در کا
میں جہاں بیٹھتا ہوں، رنج بھی آ بیٹھتا ہے
علی شیران
Ali Sheraan

Comments
Post a Comment