Apni Palkon Ke Shabistan Mein Rakha Hai Tumhein Tum Saheefa Ho So Juzdan Mein Rakha Hai Tumhein
اپنی پلکوں کے شبستان میں رکھا ہے تمہیں
تم صحیفہ ہو سو جزدان میں رکھا ہے تمہیں
Apni Palkon Ke Shabistan Mein Rakha Hai Tumhein
Tum Saheefa Ho So Juzdan Mein Rakha Hai Tumhein
ساتھ ہونے کے یقیں میں بھی مرے ساتھ ہو تم
اور نہ ہونے کے بھی امکان میں رکھا ہے تمہیں
ایک کم ظرف کے سائے سے بھلی ہے یہ دھوپ
تم سمجھتے ہو کہ نقصان میں رکھا ہے تمہیں
جتنے آنسو ہیں سبھی نذر کیے ہیں تم کو
ہم نے ہر شعر کے وجدان میں رکھا ہے تمہیں
دل تو دیوانہ ہے اپنا ہی اسے ہوش نہیں
اس لیے دل میں نہیں، جان میں رکھا ہے تمہیں
میرے زخموں کا سبب پوچھے گی دنیا تم سے
میں نے ہر زخم کی پہچان میں رکھا ہے تمہیں
طارق قمر
Tariq Qamar

Comments
Post a Comment