Barhty Barhty BeBasi Hai Ikhteyary Ban Gai Had Se Jab Guzry Ana Toh Ankisary Ban Gai
بڑھتے بڑھتے بےبسی بے اختیاری بن گئی
حد سے جب گزری انا تو انکساری بن گئی
Barhty Barhty BeBasi Hai Ikhteyary Ban Gai
Had Se Jab Guzry Ana Toh Ankisary Ban Gai
ڈُوب جانے کی اجازت جب ان آنکھوں سے ملی
کھلتے کھلتے راز اک دن رازداری بن گئی
یوں گلے ملتے گئے لمحات بھی لمحات سے
شام خود ہی ڈھلتے ڈھلتے رات ساری بن گئی
بیقراری میں ہی اب آنے لگا دل کو قرار
اور قرار آنا بھی جیسے بیقراری بن گئی
اُڑ گیا بن کر دھواں یوں آگ میں سارا بدن
بچ گئی جو راکھ وہ بھی تابکاری بن گئی
اس قدر سادہ ہوئے تیری بناوٹ دیکھ کر
سادگی ہی عمر بھر کی ریزگاری بن گئی
معجزانہ طور پر یوں ہو گیا اک معجزہ
مل گئی قسمت اُسے، قسمت ہماری بن گئی
فواد احمد
Fawad Ahmed

Comments
Post a Comment