Benam Sa Yeh Dard Thehar Kion Nahi Jata Jo Beet Gaya Hai Woh Guzar Kion Nahi Jata
بے نام سا یہ درد ٹھہر کیوں نہیں جاتا
جو بیت گیا ہے وہ گزر کیوں نہیں جاتا
Benam Sa Yeh Dard Thehar Kion Nahi Jata
Jo Beet Gaya Hai Woh Guzar Kion Nahi Jata
سب کچھ تو ہے کیا ڈھونڈھتی رہتی ہیں نگاہیں
کیا بات ہے میں وقت پے گھر کیوں نہیں جاتا
وہ ایک ہی چہرہ تو نہیں سارے جہاں میں
جو دور ہے وہ دل سے اتر کیوں نہیں جاتا
میں اپنی ہی الجھی ہوئی راہوں کا تماشہ
جاتے ہیں جدھر سب میں ادھر کیوں نہیں جاتا
وہ خواب جو برسوں سے نہ چہرہ نہ بدن ہے
وہ خواب ہواؤں میں بکھر کیوں نہیں جاتا
ندا فاضلی
Nida Fazli

Comments
Post a Comment