Char Soo Gul Thay Yahan Khaar Nahi Thay Pehly Log Ik Dojay Se Bezar Nahi Thay Pehly



چار سو گل تھے یہاں خار نہیں تھے پہلے
لوگ اک دوجے سے بیزار نہیں تھے پہلے
Char Soo Gul Thay Yahan Khaar Nahi Thay Pehly
Log Ik Dojay Se Bezar Nahi Thay Pehly
ترے حسن کی پھیلی ہے وباء یہ ورنہ
اتنی تعداد میں بیمار نہیں تھے پہلے

زیست پہلے بھی کہاں راس تھی ہم کو لیکن
اتنی تکلیف سے دوچار نہیں تھے پہلے

مری غربت کا نتیجہ ہے کہ ، مصروف ہیں وہ
اس قدر دور مِرے یار نہیں تھے پہلے

کتنی قیمت پہ بکے ہو ذرا معلوم تو ﮨﻮ
تم تو ظالم کے طرفدار نہیں تھے پہلے

تو ملا ہے تو تَخیّل کے صحیفے اُترے
اتنے اچھے مِرے اشعار نہیں تھے پہلے

تم کہاں مصر کے بازار میں آبیٹھے ہو
تم تو یوسف کے خریدار نہیں تھے پہلے

میں قبیلے میں بہت دیر کے بعد آیا ہوں
اب جو سردار ہیں سردار نہیں تھے پہلے

جھوٹ بھی حسبِ ضرورت ہی کہا جاتا ﺗﮭا
اتنی کثرت میں ریاکار نہیں تھے پہلے

آج کل تم نے جنہیں سر پہ چڑھا رکھا ہے
اس کہانی میں یہ کردار نہیں تھے پہلے
تفسِیرعبَّاس بابر
Tafseer Abas Babur


Comments

Popular posts from this blog

Dukh Ye Hai Mera Yousaf o Yaqoob Ke Khaliq Woh Log Bhi Bichdey Jo Bichadnay Ke Nahi Thay

Mere Tan Ke Zakham Na Gin Abhi Meri Aankh Mein Abhi Noor Hai

Mujh Se Meri Umar Ka Khasara Poochtay Hein Ya'ani Log Mujh Se Tumhara Poochtay Hein