Dekhty Rehny Ki Jab Dal Di Aadat Mujh Ko Ab Woh Deta Hai Na Hone Ki Azeeyat Mujh Ko
دیکھتے رہنے کی جب ڈال دی عادت مجھ کو
اب وہ دیتا ہے نہ ہونے کی اذیت مجھ کو
Dekhty Rehny Ki Jab Dal Di Aadat Mujh Ko
Ab Woh Deta Hai Na Hone Ki Azeeyat Mujh Ko
جانتا تھا وہ طبیعت مری ، سو کرتا تھا
ہجر میں چین سے رہنے کی نصیحت مجھ کو
زہر بھی رکھو دوا بھی رکھو ، جانے پڑ جائے
کون سی چیز کی کس وقت ضرورت مجھ کو
اتنے مشکل تھے شب و روز کہ دم گھُٹ جاتا
گر نہ ہوتی ترے ہونے کی سہولت مجھ کو
بس تری ایک محبت کی نظر چاہیے ہے
چاہیے ہے کوئی جاگیر نہ دولت مجھ کو
کتنی حسرت سے مرے دل نے کہا ہے مہوش
اب نہیں ہوتی کسی چیز کی حسرت مجھ کو

Comments
Post a Comment