Hum Ne Dekha Hai Muhabbat Ka Saza Ho Jana Subah Deedar Ka Bhi Sham Mila Ho Jana
ہم نے دیکھا ہے محبت کا سزا ہو جانا
صبح دیدار کا بھی شام ملا ہو جانا
Hum Ne Dekha Hai Muhabbat Ka Saza Ho Jana
Subah Deedar Ka Bhi Sham Mila Ho Jana
پہلے اتنا نہ پراگندہ مزاج دل تھا
بے سبب ہنسنا تو بے وجہ خفا ہو جانا
جی کے بہلانے کو دنیا میں سہارے ہیں بہت
سازگار آئے تمہیں ہم سے جدا ہو جانا
ہم ہیں شمع سر باد اور ہو تم موج ہوا
گھومنے پھرنے ادھر کو بھی ذرا ہو جانا
ہم ہیں محروم رہے دامن گل چیں آباد
اپنی تقدیر میں تھا بوئے وفا ہو جانا
کتنی فریادوں کے لب سی کے زباں پائی وحیدؔ
کھیل سمجھے نہ کوئی نغمہ سرا ہو جانا
وحید اختر
Waheed Akhtar

Comments
Post a Comment