Ik Naye Toor Se Yeh Zeest Nebhai Hoi Hai Jabkeh Har Khushi Apni Paraai Hoi Hai
اک نئے طور سے یہ زیست نبھائی ہوئی ہے
جبکہ ہر ایک خوشی اپنی پرائی ہوئی ہے
Ik Naye Toor Se Yeh Zeest Nebhai Hoi Hai
Jabkeh Har Khushi Apni Paraai Hoi Hai
دل نے جس چیز کو رد کرکے اڑایا تھا مذاق
سامنے بن کے مقدر مرا آئی ہوئی ہے
عین ممکن ہے کہ تم سے ہی مکمل ہو گی
ایک حسرت جو مرے دل میں سمائی ہوئی ہے
ابر باراں سے نہ آنسو سے یہ بجھ پائے گی
آگ اس دل میں کسی نے جو لگائی ہوئی ہے
اس پہ لکھوں کوئی تحریر کہ میں رنگ بھروں
تم نے تصویر ادھوری جو بنائی ہوئی ہے
اس لیے بھی تو نہیں کرتے شکایت تم سے
مہر ہونٹوں پہ خموشی کی لگائی ہوئی ہے
زیست کو کھیل سمجھ کر نہیں کھیلا کرتے
وقت نے ہم کو یہی بات سکھائی ہوئی ہے
رضیہ سبحان
Razia Subhan

Comments
Post a Comment