Jism Dooba Hoa Paseeny Mein Sans Atki Hoi Hai Seeny Mein
جسم ڈوبا ہوا پسینے میں
سانس اٹکی ہوئی ہے سینے میں
Jism Dooba Hoa Paseeny Mein
Sans Atki Hoi Hai Seeny Mein
اب ذرا سا ہی فرق باقی ہے
میرے مرنے میں اور جینے میں
لوگ طوفاں سے بچ نِکلتے ہیں
ہم کہ ڈوبے ہیں اِک سفینے میں
اُس کو دیکھا تھا ایک بار کہیں
اب نہیں یاد کِس مہینے میں
چند یادیں کسی بھلے دن کی
اور رکھا ہے کیا دفینے میں
جگمگاتا ہے یہ اندھیروں میں
بس یہی وصف ہے نگینے میں
رات ٹھہری ہوئی ہے آنگن میں
چاند بیٹھا ہوا ہے زینے میں
شاہین مفتی
Shaheen Mufty

Comments
Post a Comment