Jo Meri Ankh Se Nikla Nahi Hai Tum Us Darya Ka Akhir Kia Karogy
جو میری آنکھ سے نکلا نہیں ہے
تم اُس دریا کا آخر کیا کرو گے
Jo Meri Ankh Se Nikla Nahi Hai
Tum Us Darya Ka Akhir Kia Karogy
بچھڑنا ہے کہ ملنا ہی نہیں ہے
نجانے کون سا وعدہ کرو گے
تھما کر تم مرے ہاتھوں میں خنجر
مِرے آگے مرا چہرہ کرو گے
ابھی تو قہقہے برسا رہے ہو
کوئی چُپ ہو گیا تو کیا کرو گے
ہم اپنی خوشبوئیں بھی لے اڑیں گے
تم اُن گلیوں میں کیا ڈھونڈا کرو گے
زین شکیل
Zain Shakeel

Comments
Post a Comment