Kabhi Thak Ke So Gaye Hum Kabhi Raat Bhar Na Soye Kabhi Hans Ke Gham Chopaye , Kabhi Munh Chopa Ke Roye
کبھی تھک کے سو گئے ہم کبھی رات بھر نہ سوئے
کبھی ہنس کے غم چھپائے، کبھی منہ چھپا کے روئے
Kabhi Thak Ke So Gaye Hum Kabhi Raat Bhar Na Soye
Kabhi Hans Ke Gham Chopaye , Kabhi Munh Chopa Ke Roye
میری داستانِ حسرت وہ سنا سنا کے روئے
مجھے آزمانے والے مجھے آزما کے روئے
شبِ غم کی آپ بیتی، جو سنائی انجمن میں
کوئی سن کے مسکرائے، کوئی مسکرا کے روئے
میں ہوں بے وطن مسافر، میرا نام بے بسی ہے
میرا کوئی بھی نہیں ہے، جوگلے لگا کے روئے
میرے پاس سے گزر کر میرا حال تک نہ ہوچھا
میں کیسے مان جاؤں وہ دور جا کے روئے
پروین شاکر
Parveen Shakir

Comments
Post a Comment