Khuwahish Nahi Keh Pas Yeh Sara Jahan Rahe Jo Shakhs Mery Dil Ka Makeen Hai , Yahan Rahe
خواہش نہیں کہ پاس یہ سارا جہاں رہے
جو شخص میرے دل کا مکیں ہے ، یہاں رہے
Khuwahish Nahi Keh Pas Yeh Sara Jahan Rahe
Jo Shakhs Mery Dil Ka Makeen Hai , Yahan Rahe
اندر گھٹن تھی اور موافق نہ تھی ہوا
کتنی اذیتوں میں مرے جسم و جاں رہے
دشتِ جنوں میں کوئی ٹھکانا نہیں ملا
برسوں کسی کے ہجر میں ہم بے اماں رہے
صحرا نشیں کو قطرہ بھی کافی ہے پیاس میں
لازم نہیں کہ آنکھ سے دریا رواں رہے
مت اس کے ساتھ کیجیے منزل کا تذکرہ
وہ جس کا عمر بھر کا سفر رائگاں رہے
یہ سوچ کر شجر سے تعلق ہے آج بھی
پھل تو نہ دے سکے گا مگر سائباں رہے
میں نے تو وحشتوں میں گزاری تمام عمر
مجھ سے بچھڑ کے اتنے برس تم کہاں رہے
کچھ کرب تھے جو ہم سے بھلائے نہ جاسکے
اب تک ہماری روح پہ جن کے نشاں رہے
سب نے جلا کے رکھے چراغ اپنے بام پر
اب دیکھیے کہ کس پہ ہوا مہرباں رہے
عاصمہ فراز
Asima Faraz

Comments
Post a Comment