Koi Aisa Rawaj Tha Hi Nahi Zulam Par Ihtejaj Tha Hi Nahi
کوئی ایسا رواج تھا ہی نہیں
ظلم پر احتجاج تھا ہی نہیں
Koi Aisa Rawaj Tha Hi Nahi
Zulam Par Ihtejaj Tha Hi Nahi
زندگی موت کی رعایا تھی
اس پہ سانسوں کا راج تھا ہی نہیں
اس کو چھوڑا تو کچھ سکون ہوا
وہ مِرا ہم مزاج تھا ہی نہیں
اس کی بستی سے میں چلا آیا
جب وفا کا رواج تھا ہی نہیں
میں کسی سلطنت کا حاکم تھا
اور وہاں تخت و تاج تھا ہی نہیں
صرف ماضی کی تلخ یادیں تھیں
مرے جیون میں آج تھا ہی نہیں
اس کے آنے سے دردِ دل سنبھلا
ورنہ اس کا علاج تھا ہی نہیں
خُود کو خود ہی خراب کر بیٹھا
مرا دشمن سماج تھا ہی نہیں
تفسِیرعبَّاس بابر
Tafseer Abas Babar

Comments
Post a Comment