Mere Shehar Se Kahein Woh Door Na Jaye Meri Muhabbat Ko Woh Neelam Kar Na Jaye
میرے شہر سے کہیں وہ دور نہ جائے
میری محبت کو وہ نیلام کر نہ جانے
Mere Shehar Se Kahein Woh Door Na Jaye
Meri Muhabbat Ko Woh Neelam Kar Na Jaye
میرے معصوم دل کے جذبات کو
زخم جدائی کا دے کر نہ جائے
میری آنکھوں میں اشک نہ دے کر جائے
میرے جذبات کا قتل نہ کر جائے
میرے شہر کی رونقیں ختم نہ کر جائے
مجھے مخالفوں میں تنہا نہ کر جائے
کیا گزر رہی ہے مجھ پر کوئی بتائے انہیں
مجھ کو صحرا سا ویران نہ کر جائے
کیا اثر نہیں رہا مجاھد نور میری آواز میں
چیخوں تو شہر لرز جائے لیکن وہ مڑ کر نہ آئے
Mujahid Noor

Comments
Post a Comment